اہم خبریںبین الاقوامی

افغانستان سے امریکی انخلا چند روز میں مکمل ہونیکا امکان

برلن :  امریکی فوج آئندہ چند روز میں افغانستان سے فوجی انخلا کا عمل مکمل کر سکتی ہے ۔ امریکی فوجی ذرائع نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ رواں ہفتہ فوجی انخلا اور واپسی کے عمل کے خاتمے کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے ۔ 650 فوجی کابل میں سفارتخانے کی حفاظت کیلئے رہیں گے جبکہ مزید 100 سے زائد فوجی کابل ایئر پورٹ پر قیام کرسکتے ہیں،بگرام ایئر بیس سے بھی امریکی فوجی انخلا کیلئے تیارہیں،امکان ہے کہ اتوار تک امریکا یہ بیس بھی افغان حکام کے حوالے کردے گا۔دوسری جانب افغانستان میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے ،طالبان نے تخار کے فرخرصوبے پر قبضہ کرلیا۔افغان میڈیا کے مطابق مزار شریف میں جرمن فوج کے زیر قبضہ کیمپ مارمل پر فوجی انخلا کے چند گھنٹے بعد حملہ کردیاگیا۔حملہ آور اسلحہ اور فوجی گاڑیاں ساتھ لے گئے ۔حکام کے مطابق یہ حملہ سابق گورنر عطامحمد نور کے حمایت یافتہ افرادنے کیا۔دریں اثناکابل کے صدارتی محل میں مصالحتی کونسل کی قیادت کا سربراہی اجلاس ہوا ،جس کی صدارت عبداللہ عبداللہ نے کی، خطاب میں عبداللہ عبداللہ نے کہاکہ طالبان نے مذاکرات کا عمل سست جبکہ جنگ تیز کردی،وہ کابل کے قریب آرہے ہیں اور ہم امن کی بات کررہے ہیں،ملکی بقا خطرے میں ہے ،طالبان نے امن مذاکرات کے بہانے سے بہت وقت ضائع کیا۔بدھ کو کابل سے امریکی سفارتخا نہ نے اپنے بیان میں طالبان پر زور دیاکہ وہ تشدد چھوڑ دیں،زبردستی قائم ہونے والی حکومت کو دنیا قبول نہیں کرے گی۔طالبان امن مذاکرات کی طرف آئیں۔ادھر افغانستان سے بیشتر یورپی ممالک کے فوجی خاموشی سے نکل گئے ہیں،یورپی فوجیوں کی اکثریت خاموشی سے بغیرکسی خاص تقریب کے جا چکی ہے ۔ تاہم نیٹو نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی اپ ڈیٹ جاری نہیں کی کہ ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے تحت کتنے ملکوں کے فوجی ابھی افغانستان میں موجود ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button