انڈونیشیا،پیسے مانگنے کیلئے فقیروں کا انوکھا روپ

جکارتہ: انڈونیشیا میں بھکاریوں نے بھیک مانگنے کا انوکھا انداز اپنا لیا ہے،یہ فقیر سلور رنگ میں نظر آتے ہیں ،انہیں’’سلور مین‘‘کا نام دیا گیا ہے،فقیروں کا موقف ہے کہ انہوں نے لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کیلئے خود کو دھاتی رنگ سے رنگا ہے،دوسری جانب انڈونیشین پولیس کا کہنا ہے کہ ہ ان فقیروں کے خلاف کریک ڈائون کر ے گی اور لوگوں سے پیسے مانگنے پر ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عام طور پر فقیروں یا بکھاریوں کو پرانے کپڑے اور ہاتھ میں کشکول تھامے دیکھا جاتا ہوگا لیکن آج ہم آپ کو انڈونیشیا کے انوکھے فقیروں کے بارے میں بتانے والے ہیں۔ انڈونیشیا کی سڑکوں پر انوکھے فقیروں کو دیکھا جارہا ہے جنہیں ‘سلور مین’ کا نام دیا گیا ہے۔یہ فقیر مقامی اسٹریٹ پرفارمر سے متاثر ہیں اور انہوں نے اپنے پورے جسم پر سلور رنگ کا پینٹ کر رکھا ہے جس سے یہ کسی دھات کی طرح نظر آتے ہیں۔فقیروں کے مطابق انہوں نے اپنے پورے جسم کو دھاتی رنگ سے اس لیے رنگا ہے تاکہ لوگ ان سے متاثر ہو کر انہیں زیادہ پیسے دیں یا توجہ مبذول ہو جانے کی وجہ سے لوگ انہیں پیسے دیں۔ انڈونیشیا کے یہ فقیر اپنے جسم کو دھاتی رنگ سے رنگنے کے بعد ہاتھ میں ایک کارڈ باکس لے کر مصروف شاہراہوں اور گلیوں میں گشت کے لیے نکل جاتے ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان فقیروں کے خلاف کریک ڈائون کر ے گی اور لوگوں سے پیسے مانگنے پر ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔



