
اسلام آباد ہائی کورٹ نے خفیہ معلومات عام کرنے کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی بھی معلومات افشا نہیں کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شہری محمد نعیم خان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کو خفیہ معلومات عام کرنے سے روکنے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے حکم نامے میں بتایا کہ امید ہے وزیر اعظم حلف کی خلاف ورزی میں کوئی بھی معلومات جاری نہیں کریں گے، عدالت امید رکھتی ہے کہ وزیر اعظم ایسا کچھ بھی ظاہر نہیں کریں گے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں وہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ان کے حلف کے مطابق ہونا چاہیے، عدالت کو اعتماد ہے کہ منتخب وزیراعظم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی میں کوئی معلومات ظاہر نہیں کریں گے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت کو اعتماد ہے کہ وزیراعظم قومی مفاد اور ملکی وقار کے خلاف کوئی معلومات جاری نہیں کریں گے۔
عدالت نے کہا ہے کہ بلاجواز روکنے کا حکم جاری کرنا منتخب وزیراعظم پر عدم اعتماد کو ظاہر کرے گا۔
حکم نامے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کت ساتھ ہی خط کی بابت کہا گیا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت پبلک آفس ہولڈر خفیہ دستاویز کو نہیں دکھا سکتا۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت امید کرتی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان بطور سربراہ ایسا کوئی بھی خفیہ خط نہیں دکھائیں گے اور ایسی کوئی بھی معلومات جس سے ملکی مفاد پر آنچ آئے وہ منظر عام پر نہیں لائی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔




