اہم خبریںپاکستان

پاکستان بھارت کیساتھ دوطرفہ معاہدے ختم کرے،سید علی گیلانی کا وزیر اعظم کو خط

سرینگر: آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے میرا یہ آپ کیلئے آخری رابطہ ہو، علالت اور زائد عمری شاید دوبارہ آپ کو خط لکھنے کی اجازت نہ دے، بھارت کے غیر قانونی فیصلوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کرفیو جیسے مصائب جھیل رہے ہیں،بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، وادی میں خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے،

بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کر کے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے،عوام کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا،5 اگست کے اقدام کے جواب میں پاکستان بھارت کے ساتھ امن معاہدوں کی پاسداری نہ کرے،پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے،کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے۔ تفصیلات کے مطابق سید علی شاہ گیلانی جو گھر پر تقریبا ایک دہائی سے نظربند ہیں نے کہا کہ چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے

لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ 92 سالہ بااثر رہنما آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے ایک خط میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نازک صورتحال ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آپ سے میری آخری اپیل ہو ، خراب صحت اور بڑھاپامجھے دوبارہ آپ سے مخاطب ہونے کی اجازت نہ دیں۔ گیلانی نے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا کہ اسلام آباد بھارت کے ساتھ متعدد امن معاہدوں کی “تمام شقوں” سے دستبردار ہوجائے اور ایل او سی کو دوبارہ جنگ بندی لائن بنایا جائے۔

گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔ سید علی گیلانی نے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے اور مظلوموں کے حق میں بھارتی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی بھی تعریف کی۔ مرکزی حکومت کے جموں کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے اور اسے دو مرکزی زیر انتظام خطوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں تین ماہ سے زائد عرصے سے غیر اعلانیہ ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے

۔بزرگ حریت رہنما نے لکھا کہ بھارت کی جانب سے غیر قانونی فیصلوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کرفیو جیسے مصائب جھیل رہے ہیں،بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہا وادی میں خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے لکھا بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کر کے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے۔عوام کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا،تاہم کشمیری دستبردار نہیں ہوئے ۔حکومت پاکستان ان سارے فیصلوں کو لے کر اقوام متحدہ جائے،ایل او سی پرمعاہدے کے تحت باڑ لگانے کے معاہدے کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button