
کوئٹہ(اے این این)بلوچستان میں تبدیلی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب اور ناکام بنانے کیلئے حکومتی ارکان اور ناراض ارکان آمنے سامنے دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے ‘تاہم مذاکراتی کمیٹی دونوں کو قریب لانے میں ناکام ہوچکی ہے اور ناراض ارکان سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ ہم مذاکراتی کمیٹی میں شامل سینیٹرز ‘صوبائی وزرا ءکا احترام کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں تین سال سے وزیراعلیٰ بلوچستان سے دیوار سے لگانے کی بھرپورکوشش کی اور یہ مذاکراتی کمیٹی کہا تھے ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک وزیراعلیٰ خود استعفیٰ نہیں دیں گے ہم عدم اعتماد کیلئے اپنا اکثریت شو کرےں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے ساتھ وزےراعلیٰ کے قرےب ساتھی رابطے مےں ہے جب تک ہم پارلےمانی لےڈر کا باقاعدہ اعلان کرےں گے توہ وہ ممبران بھی نارا ض ارکان کی صف مےں شامل ہوں گے دوسری جانب حکومتی صوبائی وزےر نے بتاےا گےا کہ ناراض ارکان کے تحفظات ضرور ہےں لےکن اس کے خاتمے کےلئے وزےراعلیٰ بلوچستان نے مذاکراتی کمےٹی کو مکمل اختےاردےا ہے ماسوائے چند دےگر تمام امور طے ہو چکے ہےں جلد ناراض ارکان اسمبلی کو حکومتی ارکان مشترکہ پرےس کانفرنس کرکے اختلافات کا خاتمہ کرےں گے۔درےں اثناءبلوچستان کے مختلف قبائلی و سےاسی جماعتوں نے بلوچستان کو اےک بار پھر تجربہ گاہ کا مےدان قراردےتے ہوئے کہاکہ جب بھی کوئی نئی تبدےلی شروع ہوتی ہے وہ بلوچستان سے ہوتی ہے بلوچستان اےک پسماندہ صوبے کے ساتھ اب ےتےم صوبہ بھی بن گےا ہے جو چاہئے وہ بلوچستان کی سرزمےن کو استعمال کرتے ہےں ہمےں تبدےلی سے غرض نہےں ہے عوام کی مفاد عزےز ہے حکومت مےں شامل صوبائی وزراءہو ےا ناراض ارکان وہ اختلافات ضرور کرےں لےکن بلوچستان کو پسماندگی کو مزےد پسماندگی سے بچانے کےلئے اسی موقف اختےار کرےں کہ بلوچستان کے عوام کا نقصان نہ ہو اور بلوچستان مےں مزےد مسائل جنم لے سکےں۔




