
کراچی ( اسپورٹس رپورٹر ) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سیریز کسی ٹیم کیلئے کبھی آسان نہیں ہوتی بلکہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ تو ویسے بھی کسی تن آسانی کی اجازت نہیں دیتی ہے ۔ویسٹ انڈیز کیخلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل ورچوئل میڈیا ٹاک میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ ماہ کافی سخت اور اسی لحاظ سے کرکٹ بھی چیلنجنگ اور کڑے مقابلے کی متقاضی رہی جس کے دوران کارکردگی اور نتائج کو متاثر کئے بغیر کھلاڑیوں کو تازہ دم رہنا پڑا اور ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز بھی اس سے مختلف نہیں جہاں ایک کوالٹی ٹیم مقابل ہوگی۔میزبانوں کیخلاف عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کی امید کے ساتھ قومی کپتان کا کہنا تھا کہ طویل فارمیٹ کی کرکٹ کھیل کا عروج ہی نہیں بلکہ استعداد کار،صبر اور فٹنس کا امتحان بھی ہوتی ہے جس کے دوران کسی بھی طرز کی کاہلی کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا اور اسی سوچ کے ساتھ وہ آئندہ کچھ روز تک سبائنا پارک پر اپنی بہترین صلاحیتیں پیش کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ جمیکن وکٹیں بیٹسمینوں کیلئے سخت امتحان ہوتی ہیں لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن نے اپنی اہلیت کے لحاظ سے دو ٹیسٹ میچوں کیلئے تیاری کر رکھی ہے اور یہی وقت ہے کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز آنے کے بعد یہاں کرکٹ کا مضبوط ورثہ دیکھ کر ہر کوئی بہترین کارکردگی کی خواہش رکھتا ہے مگر مایوس کن بات یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے اہم سیریز خراب موسم کی نذر ہو گئی اور یقینی طور پر موسم کسی کے کنٹرول میں نہیں تاہم بہترین متبادل ضرور تلاش کرنا چاہئے تاکہ کھیل موسم سے متاثر نہ ہو اور اضافی دن سمیت وائٹ بال کرکٹ میں موسم سے متاثرہ میچوں کو بچانے کیلئے غور کی ضرورت ہے ۔



