
کراچی : لیکن لوگوں کو صورتحال سمجھانے کے لیے ایسا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ بولڈ سین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسے سین کرنے میں بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے کہ پتہ نہیں کیمرے پر کیسا نظر آرہا ہوگا، ہم آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے تھے کہ کہیں یہ کچھ زیادہ تو نہیں ہوگیا۔صبور نے کہا کہ صورتحال اس طرح کی ہوتی تھی کہ سمجھ نہیں آتا تھا سین کو کس طرح سے پیش کیا جائے جو دیکھنے والوں کو سمجھ آجائے ، ہماری کوشش ہوتی تھی کہ کچھ بھی حد سے زیادہ نا ہو۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں میں اور اداکار علی عباس دونوں اس چیز کے خلاف تھے کہ اس طرح سے شوٹ نہیں ہونا چاہیے لیکن آخری فیصلہ ڈائریکٹر کا ہوتا تھا۔




