
کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ بلوچستان کوتعلیم سے محرومی کاالزام سرداروں کو دیاجاتاہے ،وڈھ میں 100ایکڑ اراضی پر مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے یونیورسٹی کا منصوبہ منظور کیاتھا لیکن پی ٹی آئی حکومت نے تمام تر وعدوں کے باوجود منصوبے کو بجٹ سے ڈراپ کیاہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان نے میرے علاقے کے سولر یونٹس مسترد جبکہ دیگر کیلئے فراہمی کی منظوری دیدی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔سردار اخترجان مینگل نے کہاکہ بلوچستان کے سرداروں پر الزام لگایاجاتاہے کہ انہوں نے بلوچستان کو تعلیم سے محروم رکھاہے میں نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں یونیورسٹی بنانے کیلئے 100ایکڑ اراضی پیش کی تھی جس پر اس وقت کی حکومت نے یونیورسٹی کیلئے پیش کش قبول کرتے ہوئے سال 2017-18کے بجٹ میں منصوبے کیلئے 3بلین روپے کی لاگت سے منظوری دی تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2018ءمیں یہ منصوبہ ختم کیا حالانکہ پی ٹی آئی حکومت نے وعدہ کیاتھاکہ اس پر کام شروع کیاجائے گاتین سال گزر جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی حکومت نے تمام وعدوں کے باوجود بجٹ سے منصوبے کو نکال دیاہے ،انہوں نے کہاکہ سال 2019ءکے بجٹ میں پی ٹی آئی حکومت نے خضدار میں مختلف سڑکوں کی تعمیرات کی منظوری دی لیکن امسال ایک بار پھر انہیں بجٹ سے نکال دیاگیاہے ،انہوں نے کہاکہ تجویز تھی کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو شمسی یونٹس مہیا کئے جائیںگے لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے میرے علاقے کے سولر یونٹس مسترد جبکہ دیگر تمام کیلئے سولر یونٹس کی فراہمی کی منظوری دیدی ۔




