2020 کو اب تک کا دوسرا گرم ترین سال قرار دیا جاسکتا ہے

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سال 2020 کو اب تک کا دوسرا گرم ترین سال قرار دیا جاسکتا ہے اور یہ 2016 میں گرم ترین سال کا ریکارڈ بھی توڑ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی 2020 سے متعلق اپنی گلوبل کلائمٹ رپورٹ میں کہا کہ 2015 سے لے کر 2020 تک تمام 6 سال سب سے زیادہ گرم ترین سال ریکارڈ ہوئے۔
رپورٹ میں کہاگیا کہ 1850 کے بعد سے اب یہ 6 سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث سب سے زیادہ گرم سال رہے۔
ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹیری طلاس نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے 2020 ہماری آب و ہوا کے لیے ایک اور غیر معمولی سال رہا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں اوسط عالمی درجہ حرارت پری-انڈسٹریل لیول سے تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔
ڈبلیو ایم او نے کہا کہ 2020 سال اب تک کا دوسرا گرم ترین سال ریکارڈ ہوسکتا ہے لیکن 3 گرم ترین سالوں کے مابین فرق کم ہے اور سال کے اعداد و شمار مکمل ہونے پر یہ اندازہ تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 2015 سے 2020 تک یہ سال انفرادی طور پر ریکارڈ ہونے والے 6 گرم ترین سال ہیں۔
مزید کہا گیا کہ پچھلے 5 سالوں میں اور گزشتہ 10 برس کے عرصے میں اوسط درجہ حرارت بھی گرم ترین ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ 2020 کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ‘ ہم موسمیاتی تباہی کے کتنے قریب ہیں’۔
انہوں نے نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں ایک تقریر میں کہا ک خوفناک آگ اور سیلاب، طوفان تیزی سے نئے معمول کی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔
سیکریٹری جنرل پیٹیری طلاس نے کہا کہ انسانیت فطرت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، یہ خود کشی ہے، فطرت ہمیشہ جوابی وار کرتی ہے اور یہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ ایسا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں زمین، سمندر اور خاص طور پر آرکٹک میں انتہائی شدید نئے درجہ حرارت دیکھے گئے۔
پیٹیری طلاس نے کہا کہ آسٹریلیا، سائبیریا، امریکا کے مغربی ساحل اور جنوبی امریکا میں وسیع پیمانے پر جنگلات میں آگ لگی۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں میں آنے والا سیلاب لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے اور غذائی تحفظ میں کمی لانے کی وجہ بنا۔




