
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمان میں زبردستی قانون سازی منظور کی جا رہی ہے لیکن اگر قانون سازی زور اور دھمکی سے کی جائے گی تو اس کا اور اس طرح کی پارلیمان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نہیں تھے، وہ آج ہمارے درمیان ہیں، اس وقت انہیں کافر اور غدار کہنے والے آج انہیں شہید ماننے کو تیار ہیں اور ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ وہ لوگ بھی موجود ہیں جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو کہتے ہیں کہ آپ خاتون ہیں اس لیے آپ وزیر اعظم نہیں بن سکتیں، جو انہیں کرپٹ کہتے تھے وہ آج انہیں شہید مانتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر حملے بھی ہوتے ہیں، میڈیا پر ہماری کردار کشی ہوتی ہے، ہمارے شہیدوں کی کردار کشی کی جاتی ہے لیکن ہم اپنے مؤقف اور منشور پر قائم ہیں، کبھی کبھار ہم کامیاب ہوتے ہیں، کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو ہمارا ایمان ہے کہ ہار جیت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن محنت ہمارے سیاسی کارکن نے کی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جو اکا دکا چھوٹی موٹی جمہوریت رہی ہے، جو تھوڑی بہت میڈیا کو آزادی میسر ہے، جو میرے مزدور کا محض کاغذ پر ہی صحیح لیکن قانون تو موجود ہے اور وہ ان قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ایک ایسے وقت سے گزر رہا ہے کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم مدینہ کی ریاست میں ہیں لیکن مدینہ کی ریاست کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سب سے مشہور موٹر وے پر ایک عورت کا اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کیا جاتا ہے۔



