پاکستانتازہ ترین

پاکستان ادارہ شماریات کا ملک کے پہلے مکمل ڈیجیٹل ہاو ¿س ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 25-2024 کا اجرا

 اسلام آباد۔1جنوری :وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کو جدید، ڈیٹا پر مبنی اداروں میں تبدیل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔جمعرات کووفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہاو ¿س ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 (ایچ ا?ئی ای ایس)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں منعقد ہوئی جس کی میزبانی چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارہ? امتیاز)، محمد سرور گوندل (ستارہ? امتیاز)، ممبر ایس ایس / ا?ر ایم اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی ایس ایل ایم / پی سی ایس رابعہ اعوان نے کی۔ تقریب میں اہم شراکت داروں، تکنیکی کمیٹی کے اراکین اور پاکستان ادارہ شماریات و وزارتِ منصوبہ بندی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری، ڈیجیٹل زرعی مردم شماری اور اکنامک سروے آف پاکستان کی کامیاب تکمیل کے بعد ایچ ا?ئی ای ایس 2024–25 محققین اور کاروباری برادری کو بامعنی تجزیے اور بہتر فیصلوں کے لئے قیمتی معلومات فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے نتائج بتدریج بہتری کی عکاسی کرتے ہیں اور حکومت محتاط و ذمہ دارانہ معاشی پالیسیوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے لئے پرعزم ہے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ تعلیم میں شمولیت کی شرح کو 90 فیصد تک بڑھانا ناگزیر ہے اور خواندگی کے بحران سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنا ہوگاکیونکہ تقریباً مکمل خواندگی کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے ا ±ڑان پاکستان کے ”5Es فریم ورک“ پر مو ¿ثر عملدرآمد، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو پائیدار ترقی کے لئے ضروری قرار دیا اور 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر رابعہ اعوان نے سروے کے کلیدی نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں میں موبائل یا سمارٹ فون کی سہولت 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ابتدائی تعلیم میں صنفی برابری 92 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہو گئی ہے، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 41 سے کم ہو کر 35 فی ہزار زندہ پیدائشیں اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے کم ہو کر 47 فی ہزار زندہ پیدائشیں ہو گئی ہے۔ کل شرحِ پیدائش میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گھریلو آمدنی اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جہاں قومی سطح پر اخراجات کا بڑا حصہ خوراک (37 فیصد) اور رہائش و ایندھن (26 فیصد) پر خرچ ہو رہا ہے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان ادارہ شماریات نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ایچ ا?ئی ای ایس 2024–25 تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور گھریلو آمدنی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سروے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے ملک بھر میں معیارِ زندگی بہتر بنانے اور منصفانہ ترقی کے فروغ کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔سروے کے مطابق پاکستان بیورو آف شماریات کی طرف سے جاری سروے کے مطابق تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور معیارِ زندگی کے متعدد اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے جبکہ سکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا ہے۔ مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہو کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ہاو ¿س ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 1963 سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل یہ سروے 2018–19 میں منعقد ہوا تھا، جس میں آمدنی اور کھپت کے رجحانات سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار فراہم کئے گئے تھے۔ ایچ ا?ئی ای ایس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں پیشرفت کی نگرانی میں بھی معاون ہے جہاں پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے رپورٹ کئے جانے والے 62 میں سے 31 اشاریوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔خانہ و مردم شماری 2023 کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ ایچ ا?ئی ای ایس 2024–25 مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا گیا۔ اس سروے کی فیلڈ سرگرمیاں جون 2025 میں سہ ماہی بنیادوں پر مکمل کی گئیں جن کے دوران ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر 32 ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حقیقی وقت میں نگرانی کے لئے ایک مکمل طور پر مربوط انٹرپرائز ریسورس پلاننگ

Related Articles

Back to top button