افغانستان کی سرزمین بیرونی عسکری سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی،افغان وزیر خارجہ
کابل۔12دسمبر :افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق انہوں نے کابل میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران علما کی جانب سے ایک روز قبل متفقہ طور پر منظور کی گئی پانچ نکاتی قرارداد کی توثیق کی۔ بدھ کو افغانستان کے 34 صوبوں سے جمع ہونے والے سینکڑوں علما نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں موجودہ نظام کی حمایت، علاقائی سالمیت کے دفاع، افغانستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے، افغانوں کی بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں میں شمولیت کی مخالفت اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا گیا تھا۔ افغان وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ علما کے فتوے کی بنیاد پر افغان قیادت اپنی سرزمین سے کسی کو دوسرے ممالک میں عسکری سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت کی قیادت کسی کو دوسرے ممالک میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دے گی لہٰذا جو بھی افغان اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے گا، علما کے مطابق اس کے خلاف اسلامی امارت کارروائی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علما کے فتوے کی بنیاد پر موجودہ نظام کا تحفظ صرف سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام شہریوں کا مشترکہ فریضہ ہے۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ نظام کا تحفظ صرف سکیورٹی فورسز، وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس نظام کا دفاع کرنا ہر فرد کا فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کی طرح علما نے ایک بار پھر نصیحت کی ہے کہ مسلمانوں کو باہمی اتحاد کی روش برقرار رکھنی چاہیے۔




