بین الاقوامی

نیپال میں جنریشن زیڈ کی احتجاجی تحریک ،بھارت کے خطے میں علاقائی بالادستی کے پس پردہ عزائم آشکار

نیپال میں جنریشن زیڈ کی احتجاجی تحریک ،بھارت کے خطے میں علاقائی بالادستی کے پس پردہ عزائم آشکار

بھارت نیپال کے نوجوانوں کو استعمال کر کے جنریشن زیڈ تحریک کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے

ہندوتوا نظریے پر قائم بھارت علاقائی بالادستی کے لیے نیپال سمیت ہمسایہ ممالک میں اندرونی مداخلت میں مصروف ہے

بھارتی ذرائع ابلاغ پوری طرح نیپال میں جنریشن زیڈ کی احتجاجی تحریک کو ایجنڈے کے تحت نمایاں کر رہے ہیں

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق؛
’’نیپال میں سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج، جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں‘‘

نیپالی حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب سمیت 26 پلیٹ فارمز بند کردیئے، انڈین ایکسپریس

نیپالی نوجوان رہنماؤں نے مظاہرین کی حمایت کی، کٹھمنڈو میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، انڈین ایکسپریس

بھارتی حکومت خطے میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے ایسی تحریکوں کی حمایت کر رہی ہے

اس سے قبل 2019 میں بھی بھارت نیپال کی جغرافیائی سالمیت کو چیلنج کرتے ہوئے نئے نقشے جاری کر چکا ہے

نقشوں میں نیپال کے کالاپانی، لیپولیخ اور لمپیادھورا کو بھارتی علاقہ دکھایا گیا جس پر نیپال نے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا

بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد پر مالدیپ میں ’بھارت نکل جاؤ‘ نامی احتجاجی مہم بھی چلائی گئی تھی

مالدیپ کی حکومت کے تین عہدیدار، مودی کو ”مسخرہ”، ”دہشت گرد” اور ”اسرائیل کی کٹھ پتلی ” کہہ چکے ہیں

بھارت بنگلہ دیش میں بھی سیاسی مداخلت سے شیخ حسینہ جیسی کرپٹ وزیراعظم سے مفاد حاصل کرتا رہا

بنگلہ دیش کے ساتھ ’تیستا دریا‘ کا تنازعہ اورپاکستان کے ساتھ ’سندھ طاس معاہدے‘ کی معطلی بھارت کی آبی جارحیت کی واضح مثالیں ہیں

بھارت اس سے قبل سری لنکا میں تامل ٹائیگرز تحریک کو بڑھانے اور 2022ء کے فسادات کرانے میں ملوث رہا ہے

ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ بیانات اور اندرونی مداخلت بھارت کی مخاصمت اور جارحانہ ذہنیت کے عکاس ہیں

پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی حمایت پر سابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ کا بیان بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے

بھارت بطور Net security destabilizer خطے کے ہر ملک میں امن و خود مختاری کو نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے

Related Articles

Back to top button