گلگت
صوبائی وزیر داخلہ شمس الحق لون اور وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چھموگڑھ کے مقام پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے، محرم الحرام کے سلسلے میں کیے گئے انتظامات اور مجموعی امن و امان کی صورتحال سے متعلق میڈیا نمائندگان کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وزیر داخلہ نے گفتگو کا آغاز تمام علما، معزز شہریوں اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ایک حساس موقع پر حکومت کا ساتھ دیا اور امن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک عرصے سے مثالی امن اور ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے، جہاں تمام مسالک اور قومیتوں کے لوگ باہمی احترام اور رواداری کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، لیکن گزشتہ روز چھموگڑھ کے مقام پر پیش آنے والے واقعے نے اس فضا کو عارضی طور پر متاثر کیا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے میں نہ صرف عام شہری زخمی ہوئے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی نشانہ بنے۔ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار، رینجرز اور جی بی اسکاؤٹس کے جوان زخمی ہوئے جبکہ دو سویلین بھی متاثر ہوئے۔ حکومتی وفد نے زخمیوں کی عیادت بھی کی اور ان کے علاج معالجے کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزراء نے مزید کہا کہ حکومت نے فوری طور پر انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کو متحرک کیا اور کمشنر، ڈی سی، ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور متعلقہ افسران موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد کچھ افواہیں اور غلط اطلاعات سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں جن سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی، لیکن حکومت نے ہر سطح پر صورتحال کو سنبھالا اور فریقین سے مسلسل رابطے میں رہی۔وزیر داخلہ شمس الحق لون نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی حساس ہے اور فوری ردِعمل میں جذبات کی شدت میں اضافہ فطری امر ہے، تاہم ہمیں بحیثیت ذمہ دار شہری صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اصل محرکات اور ملوث عناصر کی نشاندہی کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی افراد اس واقعے میں ملوث پائے گئے، ان کا تعلق کسی بھی علاقے یا گروہ سے ہو، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ حکومت اس معاملے میں کوئی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے اور کسی کو بھی عوامی امن و امان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کا مہینہ صبر، برداشت اور قربانی کا پیغام دیتا ہے اور امام حسینؓ کی ذات تمام مسلمانوں کے لیے عقیدت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس مہینے میں ہمیں امام حسینؓ کی تعلیمات سے سبق لیتے ہوئے آپس میں اتحاد، رواداری اور احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ علما کرام اور ذاکرین کی خاص ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں ایسا کوئی کلمہ نہ کہیں جو کسی بھی فریق کے جذبات کو مجروح کرے یا امن و امان کے ماحول کو متاثر کرے۔ اسی طرح دیگر مسالک کے علما اور پیروکاروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طرز عمل اور عبادات میں دوسرے فریق کے جذبات کا مکمل احترام کریں۔وزراء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خود اس تمام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور سی ایم ہاؤس میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر کے تمام اضلاع سے رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ تمام ڈویژنز، اضلاع کے ڈی سیز، ایس ایس پیز اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ہر ممکن طریقے سے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلتستان ریجن، جہاں مرکزی جلوس ہوتے ہیں، وہاں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور خود وزیر داخلہ و دیگر وزرا گزشتہ روز وہاں موجود تھے تاکہ انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے، تاہم واقعہ پیش آنے پر فوری طور پر انہیں واپس آنا پڑا۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ واقعے کے بعد کوہستان کے راستے میں سفر کرنے والے کئی مسافروں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر واپس بھیجنا پڑا، جس سے ان کو تکلیف ضرور ہوئی، لیکن یہ فیصلہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ حکومت اس حوالے سے مسافروں سے معذرت خواہ ہے، لیکن حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام ضروری تھا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر صوبائی وزرا نے ایک مرتبہ پھر تمام مکاتب فکر، علما، ذاکرین، سوشل میڈیا صارفین اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے کردار میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے الفاظ یا اقدامات سے گریز کریں جو معاشرے میں اشتعال یا بدامنی کا سبب بنیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سلامتی، ترقی اور بقا صرف امن میں ہے اور اس کے لیے حکومت، ادارے اور عوام سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا




