پاکستانی عورت ملک میں مغربی کلچر نہیں ، اسلام کی پاکیزہ تہذیب چاہتی ہے ، مو لا نا عبد الحق ہاشمی

کوئٹہ( این این آئی)جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ پاکستانی عورت ملک میں مغربی کلچر نہیں ، اسلام کی پاکیزہ تہذیب چاہتی ہے تاکہ ملک کو اس کی اساس اور نظریے کے مطابق اسلام کا گہوارہ بنایا جاسکے ۔ نا م نہاد مہذب مغربی دنیا میں عورت کو آمدن کا ذریعہ بنالیا گیاہے ۔ ملک میں خواتین کا استحصال ہورہاہے ۔ بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں چھوڑآتے ہیں جبکہ اسلام ماں کو اتنا اعلیٰ و ارفع مقام بخشاہے کہ اسے قدموں میں جنت رکھ دی ہے ۔ جماعت اسلامی عورت کے بارے میں جاہلانہ رسوم و رواج کے خاتمہ اور انہیں وراثت میں حق دلانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ضلع میں بچیوں کے لیے یونیورسٹی بنے اور ان کے لیے کھیلوں کا باپردہ انتظام ہوتاکہ وہ بھی ڈاکٹراور انجینئرز بنیں ۔ مہنگائی بدعنوانی نے جتنے مرد وں کو پریشان کیا اس کے اثرات خواتین پر بھی براہ راست پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے خاندان معاشرتی نظام بھی متاثر ہورہاہے۔ انہو ں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام صوبوں میں خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹیاں قائم کی جائیں ۔ دیہاتی علاقوں میں ہیلتھ سنٹرز اور ڈسپنسریاں قائم کی جائیں ۔ خواتین کو شہری دفاع اور فسٹ ایڈ کی ٹریننگ دی جائے ۔ عورت کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ جیلوں میں بے گناہ قید خواتین کی رہائی کے لیے ان کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے ۔ ذرائع ابلاغ میں خواتین کے استحصال کو روکا جائے اور میڈیا پر فحاشی و عریانی کے پروگرامات کو روکا جائے تاکہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔ ذرائع ابلاغ میں خواتین کو اپنے موقف کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اس سلسلہ میں ان کے لیے بہترین ماحول اور سہولیات کا اہتمام کیا جائے ۔ ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں ملک میں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ چاہتی ہیں ، بدقسمتی سے ملک میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو میرا جسم میری مرضی اور مغرب کے فحش عریاں اور حواس با ختہ کلچر کو پروموٹ کر کے ملک کی اسلامی شناخت پر دھبہ لگانا چاہتے ہیں ۔ایسے عناصر کی سرکاری سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی جلد ہی سینیٹ میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا بل پیش کرے گی ۔



