
تحریر
میر آفاق ظفر
( سابق صدر سٹوڈنٹ ویلفیئر آرگنائزیشن)
ہمارا رھبر ،ہمارا آغا جان اور ہمارے سردار آیت اللہ علی خامنہ ای کا ہم سے جدا ہونا کسی آزمائش سے کم نہیں ، آج صرف ایران نہیں بلکہ پورا عالم اسلام یتیم ہوگیا ۔ رھبر نے شہادت کو ترجیح دی لیکن وقت کے یزیدوں کے سامنے جھکا نہیں ۔ میرے رھبر کو پہلے ہی اپنی شہادت کا علم ہو چکا تھا ۔ لیکن میرا رھبر نے وقت کے یزیدوں کو یہ پیغام دیا کہ امام حُسین کا سپاہی موت کو تو گلے لگا سکتا ہے لیکن وقت کا یزید کے سامنے جھکا نہیں سکتا ہے ۔
آیت اللہ علی خامنہ ای صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک استقامت اور ایک مزاحمت کی علامت ہیں۔ وہ شخصیت جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ حالات کے دھارے کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ خود تاریخ کا دھارا موڑ دیتے ہیں ۔
دنیا کے نقشے پر جب طاقتور اپنی قوت کا اظہار کرتے ہیں، تو کچھ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دبتی نہیں،بلکہ اور بلند ہو جاتی ہیں۔ ہمارے رھبر ،ہمارے آغا جان آیت اللہ علی خامنہ ای انہی آوازوں میں سے ایک تھے ۔
آخر میں ، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کون صحیح تھا اور کون غلط، مگر یہ طے ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام عزم، مزاحمت اور خودداری کے باب میں ہمیشہ لکھا جائے گا۔



