اہم خبریںبین الاقوامی

کورونا : بھارت میں یومیہ 4 لاکھ تک مریض، ویکسین ختم، لاشیں جلانے کیلئے بھی ٹکٹ

نئی دہلی، واشنگٹن :   بھارت میں کورونا وائرس کے یومیہ 4 لاکھ کے قریب نئے مریضوں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روز پہلی بار نئے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ سے بھی بڑھ گئی ، اس کے علاوہ گزشتہ روز لگاتار تیسرا دن تھا جب انڈیا میں 3500 سے زیادہ افراد اس وبا کی وجہ سے جان سے گئے ۔گزشتہ روز مرنیوالوں کی تعداد 3521 رہی۔اس کے علاوہ شمشان گھاٹوں میں لاشیں جلانے کیلئے گنجائش ختم ہوچکی ہے جس کیلئے ٹکٹ جاری ہونا شروع ہوگئے اور ویکسین بھی ختم ہوچکی ہے ۔ مشرقی دہلی کے شمشان گھاٹ کے سربراہ نے بتایا کہ عالمی وبا سے قبل وہ یومیہ 8 سے 10 لاشیں جلاتے تھے ، اب 100 سے 120 لاشیں جلا رہے ہیں۔ لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شمشان گھاٹ میں نئی چتائیں بنائی گئی ہیں، لاشوں کی زیادہ تعداد اور کم جگہ کے باعث اہل خانہ ٹکٹ لینے کے بعد اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ لاشوں کی وجہ سے لکڑی کی سپلائی بھی مسئلہ بن گیا جس کیلئے میئر دہلی نے وزیر اعلیٰ کیجریوال کے نام خط میں درخواست کی کہ محکمہ جنگلات سے کہیں کہ لکڑی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے ۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں کی ٹیم نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ 3 سے 5 مئی کے دوران بھارت میں نئے کورونا کیسز ریکارڈ بلندی کو چھو سکتے ہیں۔ امریکی و برطانوی میڈیا کی رپورٹس میں ان سنگین حالات کا ذمہ دار مودی کو کہا گیا ہے ۔ معروف ٹی وی میزبان روہت سردانا بھی کورونا وائرس سے چل بسے ۔ سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ودیا ساگر نے نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا ان کی ٹیم کو یقین ہے کہ آئندہ ہفتے بھارت بھر میں نئے کورونا کیسز ریکارڈ بلندی تک پہنچ سکتے ہیں۔ عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے حکومت کو طویل المدت حل کیلئے وقت ضائع کرنے کی بجائے چار سے چھ ہفتوں کی منصوبہ بندی کرنی ہے ،کیونکہ یہ فوری نوعیت کا مسئلہ ہے ۔ادھرویکسین ختم ہونے پر بھارت میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے ۔ ویکسین کی خوراکیں ختم ہونے پر متعدد ریاستوں نے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کی اتوار سے شروع ہونے والی مہم پر عمل سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ بدترین متاثرہ صوبوں مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور نئی دہلی کے مطابق انہیں ویکسین کی مناسب خوراکوں کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اس لئے مہم شروع نہیں کر سکتے ۔ ممبئی میں ویکسین کا سٹاک نہ ہونے پر ویکسی نیشن مہم تین دن کیلئے بند کر دی گئی۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے شہریوں سے درخواست کی کہ ویکسی نیشن کیلئے قطاروں میں کھڑے نہ ہوں، نیا سٹاک ملتے ہی انہیں مطلع کر دیا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا تیسرے مرحلے کی کورونا ویکسی نیشن ہفتے سے شروع نہیں ہو گی۔ہمیں ابھی تک یہ ویکسین موصول نہیں ہوئی۔ ادھر دہلی کی ہائی کورٹ نے کورونا کی صورتحال کے حوالے سے سماعت کے دوران کہا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستروں اور آکسیجن کی کمی ریاست کی مکمل ناکامی ہے ۔ یہ جنگ ہے لڑائی نہیں۔ صحت کا پورا نظام ناکام ہو چکا ہے ۔ علاوہ ازیں امریکا نے بھارت سے امریکا کے سفر پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ہم فوری طور پر انڈیا سے سفر پر پابندی لگا رہے ہیں جس کا نفاذ منگل چار مئی سے ہو گا ۔ اس پابندی کی وجہ انڈیا میں کووڈ 19کے مریضوں کی انتہائی زیادہ تعداد اور وائرس کی مختلف اقسام کی موجودگی ہے ۔ بھارت کے 350 سے زائد سائنسدانوں نے وزیراعظم مودی سے اپیل کی ہے کہ وائرس ڈیٹا جاری کیا جائے جس میں وائر س کی نئی اقسام، کورونا ٹیسٹنگ، صحت یاب مریضوں اور ویکسین پر لوگوں کے ردعمل کی تفصیلات شامل ہوں۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بھارت میں کورونا کی نئی ہلاکت خیز لہر کا ذمہ دار وزیراعظم مودی کو قرار دیتے ہوئے کہا کورونا کے یومیہ کیسز میں ریکارڈ اضافے کے باوجود وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کے انتخابات ملتوی نہیں کئے بلکہ انتخابی مہم کے دوران بڑے بڑے جلسوں سے نہ صرف خود خطاب کیا بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اجتماعات کی اجازت دی۔ رہی سہی کسر کمبھ میلے نے نکال دی جس میں شریک 25 لاکھ سے زائد یاتریوں نے تین روز تک ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقدس دریا میں ڈبکیاں لگائیں۔ ادھر برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کشمیری خاتون صحافی نعیمہ احمد مہجور نے لکھا ہے کہ بھارتی عوام کوپانچ ٹریلین معیشت کا خواب دکھانے والے مودی کے بھارت میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے لوگ کتے بلیوں کی طرح سڑکوں پر مر رہے ہیں، جس ملک کے ہسپتالوں میں 10 ہزار مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر اور 50 ہزار سے زائد کے لیے ایک بیڈ ہو، کیا اس ملک کے وزیر اعظم کو سردار پٹیل کے مجسمے پر دو ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے چاہئیں تھے ؟بھارت مذہبی جنون کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے اگر یہ پیسہ ہسپتال میں بستروں، آکسیجن اور ادویات پر لگاتا تو عالمی برادری کے سامنے جھولی پھیلانے کی شاید نوبت نہ آتی۔اس کے علاوہ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے بھی نریندر مودی اور ان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا جن اجتماعات کے ذریعے کورونا تیزی سے پھیل سکتا ہے انہیں منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس کے باعث تمام تجارتی بین الاقوامی پروازیں 31 مئی تک معطل رہیں گی۔ اس کے علاوہ یوکرائن کی حکومت نے 2 مئی سے بھارت سے غیر ملکیوں کے یوکرائن آنے پر پابندی عائد کر دی ۔ دریں اثنا نئی دہلی میں سکھ گورودواروں میں آکسیجن لنگر کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کو مفت آکسیجن فراہم کی جاسکے ۔ جاپان نے کہا وہ انڈیا کو آکسیجن جنریٹرز اور وینٹی لیٹرز فراہم کرے گا۔اسی طرح امریکی فضائیہ کے طیارے سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ گزشتہ روز نئی دہلی پہنچ گئی۔ مزید طیارے اگلے ہفتے پہنچیں گے ۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے عائد پابندیوں میں نرمی بھارت جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button