اسلام آباد ( )چئیرمین پی اے آر سی گرفتاری سے متعلق نئے انکشافات سامنے آگئے ،چئیرمین کی گرفتاری عین اسوقت سامنے آئی جب چند روز بعد انکی مدت ملازمت میں توسیع ہونے والی تھی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ڈاکٹر غلام محمد علی کی گرفتاری عین اسوقت سامنے کی گئی جب چند روز بعد انکی مدت ملازمت میں توسیع ہونے والی تھی جبکہ دوسری جانب وزارت فوڈ سیکیورٹی کے وزیر اور وفاقی سیکریٹری چئیرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے سرگرم تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کطھ عرصے میں ذاتی عناد کی بنیاد پر چئیرمین پی اے آر سی کے خلاف متعدد پٹیشنز بھی دائر ہوئیں تاہم اسلام ہائی کورٹ نے انہیں عہدے پر بحال رکھا ۔دوسری جانب ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے اتوار کے روز ہی مقدمہ درج کیا،اور چند گھنٹے بعد ہی ڈاکٹر غلام محمد علی کو گرفتار کرلیا ۔چئیرمین پی اے آر سی کو زرعی شعبے میں اعلی کارکردگی پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ مقدمے میں چئیرمین سمیت پی اے آر سی کے 19 سائنسدان اور اعلی افسر نامزد ہیں ۔گزشتہ ماہ وفاقی وزیر نے چئیرمین آفس کو تالا لگا کر سیل کروایا تھا جسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ڈی سیل کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر غلام محمد علی کو انکی خدمات کے اعتراف میں کورین حکومت نے سب سے اعلی صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے چئئرمین کے خلاف بھرتیوں پر آڈٹ اعتراضات کو سیدھا ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا ۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چئیرمین پی اے آر سی کی فوری گرفتاری کے لئے متعلقہ وزارت اور وزیر اعظم آفس سے ایف آئی اے پر شدید دباو ڈالا گیا۔ جس میں ایک اہم وفاقی وزیر نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔




