کوئٹہ میں مہنگی آٹا سپلائی بند، چینی، گھی اور مرغی کے نرخ آسمان پر پہنچ گئے

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات شدت کے ساتھ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ آٹے کی سپلائی بھی متاثر ہو کر بحران کی شکل اختیار کرنے لگی ہے یو این اے کے مطابق پنجاب سے کوئٹہ آنے والے آٹے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے باعث شہر میں آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں دوسری جانب چینی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کوئٹہ کی ہول سیل مارکیٹ میں 50 کلو چینی کی بوری جو پہلے 7300 روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اب بڑھ کر 8800 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس طرح فی کلو چینی کی قیمت میں تقریبا 35 روپے اضافہ ہوا ہے، جس نے عام صارف کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اسی طرح مرغی کے گوشت کی قیمت میں بھی 100 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل مرغی کا گوشت 560 سے 570 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا، جو اب بڑھ کر 660 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے خوردنی تیل اور گھی کی قیمتیں بھی مہنگائی کی لہر سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق خوردنی تیل کی قیمت میں فی کلو 100 روپے جبکہ گھی کی قیمت میں 80 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاجروں اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے اشیا کی ترسیل مہنگی ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مہنگائی پر قابو پایا جائے، آٹے کی سپلائی بحال کی جائے اور ٹرانسپورٹ کرایوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ممکنہ بحران سے بچا جا سکے جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ نے کرایوں میں 60 فیصد اضافہ کر دیا ہے گڈ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مزم مسلسل اضافے کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔




