
مظفرآباد( پی آئی ڈی) 02 جون- چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی زیر صدارت سابق ایڈووکیٹ جنرل و سابق چیئرمین احتساب بیورو راجہ غضنفر علی خان اور الیاس عباسی ایڈووکیٹ کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تعزیتی ریفرنس میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان، ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں وکشمیر شیخ مسعود اقبال، ممبر بار کونسل چوہدری شوکت عزیز ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید مہر علی بخاری ودیگر نے خطاب کیا اور راجہ غضنفر علی خان اور الیاس عباسی ایڈووکیٹ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ راجہ غضفرعلی خان کی وفات ایک بڑا سانحہ ہے وہ ایک باکردار شخصیت تھے،آپ نے بڑی شان سے زندگی بسر کی ۔ راجہ غضنفر خان کی گفتگو میں ایسی مٹھاس تھی کہ ہر بندہ انکو سننا پسند کرتا تھا ۔ وہ ایک نڈر اور بہادر وکیل تھے ۔ بطور چیئرمین احتساب بیورومیں نے نہیں سنا کہ ان کے خلاف کسی نے کوئی بات کی ہو۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم نے کہاکہ مرحوم راجہ غضنفر علی خان اور مرحوم سردارالیاس عباسی سے دیرینہ تعلق تھا۔ ان کی زندگی کی بارے میں جتنی بھی بات کی جائے بہت کم ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی انکو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خا ن نے کہاکہ مئی کا مہینہ بڑا مشکل گزرا ہے ، مئی کے مہینے میں بھارتی اشتعال انگیزی سے ہماری شہریوں کی قیمتی جانیں گئیں اور ہمارے شہری افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہے ۔ مسلط کردہ جنگ کے بادل ابھی گئے نہیں تھے کہ راولاکوٹ میں ہونے والے دو واقعات میں ہمارے پولیس جوانوں کی جانیں گئیں۔مئی کے مہینے میں ہی ہم سابق وائس چیئرمین بار کونسل مشتاق شاہین ایڈووکیٹ ، سلیمان کنالوی ایڈووکیٹ ، الیاس عباسی ایڈووکیٹ اور راجہ غضنفر علی خان ایڈووکیٹ سے محروم ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ راجہ غضنفر علی خان کی شگفتگی انکی طبعیت کا خاصہ تھی، ان کی وفات سے ایک عظیم دوست سے محروم ہوگیا۔ سچ کہنے میں کبھی انہوں نے جھجک محسوس نہیں کی ۔ الیاس عباسی ایڈووکیٹ بہت شائستہ اور نرم دل رکھنے والے انسان تھے ۔ الیاس عباسی نے سیکرٹری حکومت ریٹائرہونے سے پہلے اور بعد بھی بار کی عظمت میں اضافہ کیا۔ الیاس عباسی قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے۔ تعزیتی ریفرنس میں مرحوم وکلاء کے ایصال ثواب کیلئے دعا بھی کی گئی۔



