عمران خان کی تقریر میں پرانی باتوں اور الزامات کے سوا کچھ نہیں تھا : حافظ حمد اللہ

0

کوئٹہ : جمعیت علما ء اسلا م کے رہنما ء سابق سینیٹر اور پا کستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی تقریر پر ردعمل دیتے ہو ئے کہا ہے کہ عمرا ن نیازی کی تقریر میں پرا نی با توں، غلط بیا نی اور الزامات کے سوا کچھ نہ تھا وہ ابھی تک کنٹینر پرکھڑے لگ رہے تھے عمرا ن نیا زی کہے یا نہ کہے مو لا نا فضل الرحمن مو لانا ہے،مو لا نا فضل الرحمن اتوار کوعمران خان کا سیاسی جنازہ پڑھائینگے، بتا یا جا ئے کہ کیاکشمیر کا سودا، اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کوگروی دینا اور سی پیک معطل کرنا امریکی اوریو این سیکورٹی کونسل میں بھارت کوووٹ دینا اور کلھبوشن کو این آر او دینا بیرونی قوتوں کی غلامی نہیں؟۔اپنے جا ری کر دہ بیان میں حا فظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ عمرا ن نیا زی کی تقریر میں وہی پرانی باتیں تھی جسے وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کیا کر تے تھے وہ کنٹینر پرکھڑے لگ رہے تھے عمرا ن نیازی کی تقریر میں پرا نی با توں، غلط بیا نی اور الزامات کے سوا کچھ نہ تھا، انہوں نے کہا کہ 9/11کے بعد دہشتگردی کی جنگ اور اس سے پہلے ریفرنڈم میں بھی عمرا ن نیا زی نے مشرف کی حمایت کی تھی اس جنگ میں 70ہزار پاکستانیوں کی شہادتیں ہو ئی بلکہ ملک کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی مولانافضل الرحمن کو مولاناکہے یا نہ کہے وہ مولانا ہیں، مولانافضل الرحمن عمران خان کا سیاسی جنازہ اتوار کو پڑھائینگے، عمران نیازی آپ کے سامنے 2راستے ہیں یا تو وہ اتوار کے دن تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرے یا پھر مستعفی ہو جا ئے اس کے سوا ان کے پاس کو ئی راستہ نہیں،انہوں نے کہا ہے کہ عمرا ن جیسا بیرونی قوتوں کا مہرہ خود ساڑھے تین سال تک ملک پر مسلط رہا،ہم واضح کر نا چا ہتے ہیں کہ 9/11کے بعد سب سے پہلے دہشت گردی کی پالیسی پر مخالفت مولانا فضل الرحمن نے کی تھی،اقتدار بچانے کیلئے خط کو بنیاد بنا کر عمران نیازی نے قومی سلامتی کوداؤ پر لگایا دیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوچھنا چا ہتے ہیں کہ کیا کشمیر کا سودا، آئی ایم ایف کو اسٹیٹ بنک گروی دینا اور سی پیک معطل کرنا امریکی اوریو این سیکورٹی کونسل میں بھارت کوووٹ دینا اور کلھبوشن کو این آر او دینا بیرونی قوتوں کی غلامی نہیں؟ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی ووٹنگ کے دن ایک لاکھ لوگ جمع کرنے کی بجائے 172کا مطلوبہ فیگر پورا کریں وہ چا ہتے ہیں کہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو وہ ملکی حالات کو تصادم کی طرف لیجانے کا خطرناک منصوبہ رکھتے ہیں اس لئے انتظامیہ قومی اسمبلی کی فول پروف سیکورٹی کاانتظام کرے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران نیازی اکثریت کھوچکا ہے اب وہ وزیراعظم نہیں رہے انتظامیہ غیرآئینی،غیرقانونی احکامات ماننے کی پابندی نہ کریں امن وامان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اگراسلام آباد میں امن وامان کامسئلہ پیداہوا تو ذمہ دار انتظامیہ ہوگی انہوں نے کہا ہے کہ عمران نیازی اپنی کرسی کے بچاؤ میں بدامنی پیداکرنے سے بھی گریز نہیں کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.