پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھا؟ بھارتی رہنما کے چونکا دینے والے انکشافات
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
نئی دہلی: نیوز ڈیسک
بھارتی سیاست میں 2019 کے پلوامہ حملے سے متعلق ایک بار پھر سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد بھارت کے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
بھارتی رہنما سنتان پانڈے نے الزام عائد کیا ہے کہ پلوامہ حملہ کسی غیر ملکی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک منظم سیاسی سازش کے طور پر استعمال کیا اور اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا۔
بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، سنتان پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ پلوامہ حملے کو عوامی جذبات بھڑکانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق مودی حکومت نے اس واقعے کے ذریعے اپنی نااہلی اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد (آر ڈی ایکس) کہاں سے آیا، جس کا جواب آج تک بی جے پی حکومت عوام کو فراہم نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر شفاف تحقیقات اور ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزام لگانا مودی حکومت کا معمول بن چکا ہے۔
سنتان پانڈے نے مزید الزام لگایا کہ عوامی جذبات کو ابھار کر اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان کے بقول بمبئی حملہ، پلوامہ حملہ، سمجھوتہ ایکسپریس اور پہلگام جیسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
بھارتی رہنما کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام اب ان سیاسی ہتھکنڈوں کو سمجھنے لگی ہے اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان الزامات کے بعد بھارت میں پلوامہ حملے سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
Comments are closed.