صؤابی( )ضلع صوابی تحصیل ٹوپی کی انتظامیہ اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنی نام نہاد کار کردگی اور عہدے کی طاقت دکھانے کیلئے غریبوں کے روز گار اور زندگی بھر کی کمائی سے خریدے گئے اثاثے بغیر کسی معاوضے اور پیشگی اطلاع کے عدالتی حکم کے نام پر مسمار کر دیے, عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا ان خیالات کا اظہار صوابی پریس کلب میں ڈاکٹر نوید اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی ضلعی راہنماء محمد اشفاق خان ایڈووکیٹ سابق تحصیل کونسلر محمد سلیم ،سہیل احمد اور سعید اللہ یوسفزئی اور عزیز اللہ بی موجود تھے عزیز اللہ مارکیٹ نزد گدون کارخانو کیمپ مارکیٹ مسماری پر رد عمل دیتے ہوئے ڈاکٹر نوید نے کہا کہ ضلع صوابی کی تحصیل ٹوپی میں واقع مارکیٹ کو ضلعی انتظامیہ نے بغیر کسی نوٹس کے کسی کی ایما پر رات کی تاریکی میں عوام کی املاک پر ڈاکے کے مترادف کہا کہ اتوار عام تعطیل کے دن مارکیٹ میں ہیوئی مشینری انتظامیہ نے اپنی موجد گی زبردستی گرانا شروع کیا جس میں 1991/1992 میں تعمیر شدہ عزیز مارکیٹ، جس کی موجودہ مالیت 40 کروڑوں روپے سے زائد ہے، کو بغیر پیشگی نوٹس چھٹی والے دن ، جس میں عدالتی کاروائی ممکن نہیں ہوتی ہے کو بے دردی سے مسمار کیا گیا۔ ہم نے 1992 میں اس مارکیٹ کیلئے ٹرانسفر مر اور کھمبا خریدا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مارکیٹ 1992میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ 1997میں اس مارکیٹ کے نیچے STFA کینال جو کہ زمین دوز مثل ہے۔ جس کی گہرائی بہت زیادہ ہے ، گزاری گئی۔ جو کہ ۲۰۰۴ میں مکمل کئی گئی۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اس مارکیٹ کی تعمیر کسی برساتی نالے ہے یا سر کاری ملکیت پر نہیں کی گئی تھی۔ جس میں عوام الناس کو تکلیف پہنچتی ہو۔ چونکہ زمین دوز کینال مارکیٹ کے بننے کے بعد گزاری گئی تھی، اس کے باوجود بھی اس کو انکروچمنٹ یعنی غیر قانونی تجاوزات کا نام دیا گیا، جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہم نے مختلف عدالتوں میں قانون اور آئین کے مجوزہ طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کا رخ کیا ۔ جس میں ایک عدالت نے ہمارے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے انتظامیہ کو ر تم ادا کرنے جبکہ دوسری عدالت نے مشترکہ کھاتہ کی تقسیم اور تتمہ کاٹنے کے احکامات جاری کیے۔ لیکن ہمیں اس سلسلے میں اب تک ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ ایریگیشن ڈپارٹمنٹ والوں کی طرف سے عدالت کو جو کا غزات پیش کئے گئے وہ حقیقت کے بر خلاف تھے، جس میں ظاہر کیا گیا، کہ ہم نے مطلوبہ رقم وصول کی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہماری اپیل کو خارج کیا گیا، جو کہ ہر گز غلط ہے۔ ہم نے اس بد میں آج تک ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا ہے۔ اپیل خارج ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ انتظامیہ فوری طور پر بغیر کسی نوٹس کے کسی کی املاک کو نقصان پہنچائے۔
ائین پاکستان کے تخت کسی بھی املاک کو گرانے کیل؛ئے کم ازکم 7 دن کا پیشگی نوتس دینا جروری اور لازم ہوتا ہے لیکن انتظامیہ اور ایریگیشن ڈیپارٹمنت نے تمام قانونی تقاضوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے عوام الناس کی کروڑوں روپے کی املاک کو مسمار کیا .
ہم حکومت وقت سے پاکستان کے اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس یحیٰ افریدی صاحب اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر صاحب سے اس بابت انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس میں انتظامیہ خصوصا ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملوث اہلکاروں کا اس معاملے میں کھڑا اختساب کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کی املاک کو بغیر پیشگی نوٹس کے مسمار کرنے کی جرات نہ کرسکیں اور سائیلان کا جتنا بھی نقصان اور مسمارگی ہوئی ہے اس کا ازالہ دیا جائے,
آئین پاکستان کے تحت کسی بھی املاک کو گرانے کیلئے کم از کم سات دن کا پیشگی نولس دینا ضروری اور لازم ہوتا ہے۔ لیکن انتظامیہ اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے تمام قانونی تقاضوں کو جوتے کے نوک پر رکھتے ہوئے عوام الناس کی کروڑوں روپے کی املاک کو مسمار کیا۔اس موقع پر ممتاز قانون دان محمد اشفاق خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق اللہ کے بعد تماما راضی اسٹیٹ کی ضرورت ہے لیکن ایک ضابطے کے مطابق کسی منصوبے کیلئے خرید سکتی ہے اس واقع میں محکمہ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے ہیں عدالت میں انتظامیہ کے خلاف ڈیمیج سوٹ کریں گے اور ازالہ کیلئے مجبور کریں گے ساتھ پی ٹی آئی کے پاس وزارت ایریگیشن ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے مارکیٹ کو مسمار کرنے سنیاسی انتقام کا نتیجہ ہے
انہوں نے حکومت وقت سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس یحی آفریدی صاحب اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر سے اس بابت انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس میں انتظامیہ اور خصوصاً ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کے ملوث اہلکاروں کا اس معاملے میں کڑا احتساب کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی کی املاک کو بغیر پیشگی نوٹس کے مسمار کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ اور سائلان کا جتنا بھی نقصان اور املاک مسمار کی ہوئی ہے اس کا ازالہ دیا جائے۔




